بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق نائب وزیر خارجہ اور چین میں ایران کے سابق سفیر ڈاکٹر مہدی صفری نے تہران اور بیجنگ کے درمیان اسٹراٹیجک اور طویل مدتی تعلقات پر زور دیا اور کہا: "ایران اور چین کے تعلقات بہت طویل مدتی، اسٹراٹیجک رہے ہیں اور رہیں گے۔ ہم نے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے شعبوں میں بہت قریبی تعاون کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا: "چین نے ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کا خیال رکھا ہے اور ایران نے بھی چین کے مفادات کا خیال رکھا ہے، اہم ترین مسائل میں سے ایک توانائی کی فراہمی اور اس محفوظ ترسیل ہے اور چینی اس بات سے آگاہ ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں سیکورٹی اور تیل کی خدمات فراہم کی ہیں اور یہ خدمت چین کو فراہم کی گئی ہے اور کی جاتی رہے گی۔"
ڈاکٹر صفری نے ایران اور چین کے درمیان وسیع پیمانے پر باہمی تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے، کہا: "ہم چین کے ساتھ تجارت کے مختلف شعبوں میں قلیل مدتی اور طویل مدتی مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں، ثقافتی اور سماجی شعبوں میں ہمارے تعلقات میں بہت اچھے ہیں اور رہیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی تعلقات یوآن اور ریال کی بنیاد پر قائم ہوں گے، جس میں دونوں ممالک کے مرکزی بینک کردار ادا کر رہے ہیں؛ اس سے ہمیں کسی تیسرے ملک کی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چین قلیل مدتی منصوبوں کو مدنظر نہیں رکھتا اور صرف طویل مدتی منصوبوں ہی کو اہمیت دیتا ہے۔"
سابق نائب وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے دورہ چین کے حوالے سے کہا: "یہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے دورے ہیں، اور ان دو ممالک کے درمیان تائیوان، ٹیرف اور نایاب دھاتوں جیسے تنازعات سر اٹھاتے رہتے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ چین کی اقتصادی طاقت امریکہ سے بہت زیادہ ہے اور اقتصادی اور تجارتی طاقت کے ساتھ، خطے میں عوامی جمہوریہ ایران کے لئے ـ تمام ثقافتی اور سیاسی، اقتصادی، سلامتی کے میدانوں میں ـ بہترین شراکت دار اسلامی جمہوریہ ایران ہے ۔"
اس سوال کے جواب میں کہ "کیا آپ چین کو ایران کے لئے قابل اعتماد شراکت دار سمجھتے ہیں؟"، انھوں نے واضح کیا: "بالکل، ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھتا ہے، لیکن چین کا مفاد ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اسٹراٹیجک تعلقات قائم رکھنا ہے؛ اور خود "اسٹراٹیجک تعلقات" میں "قابل اعتماد" ہونے کا تصور پوشیدہ ہے۔

ڈاکٹر مہدی صفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ